قائد حزب اختلاف سینیٹ، سینیٹر شبلی فراز نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات کی عدالتی کارروائیوں پر گہرے تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق، شبلی فراز نے مطالبہ کیا ہے کہ ان مقدمات میں شفاف ٹرائل اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، لہٰذا ان تمام کیسز کا ازسرنو آئینی اصولوں کے مطابق جائزہ لیا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو اپنی پسند کے وکیل کی سہولت فراہم کی جائے، عدالتی سماعتوں میں میڈیا کو رسائی دی جائے اور پولیس و پراسیکیوشن کی مبینہ بدنیتی کی غیر جانب دارانہ تفتیش کرائی جائے۔ شبلی فراز نے زور دیا کہ قانون کی بالادستی کے بغیر منصفانہ انصاف ممکن نہیں، اور مشکوک نوعیت کے مقدمات کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اور آئینی حکمرانی کا دار و مدار سپریم کورٹ کی بروقت اور اصولی مداخلت پر ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے مشیراطلاعات بیرسٹر سیف نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جعلی حکومت پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جھوٹے مقدمات کے ذریعے نااہل قرار دے رہی ہے تاکہ فارم 47 کے تحت اپنے من پسند امیدواروں کو کامیاب کرایا جا سکے۔ ان کے مطابق، جن امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا، ان کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فارم 45 پر منتخب ہوئے تھے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب غیر جانبدار ادارہ نہیں رہا بلکہ حکومت کا آلہ کار بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست کے مجوزہ احتجاج سے حکومت میں بےچینی پائی جا رہی ہے۔ حکومت کے تمام ہتھکنڈے پی ٹی آئی کے عوامی احتجاج کو دبانے میں ناکام ہوں گے، اور یہ احتجاج حکومت کے خاتمے کی علامت بنے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی اب روکی نہیں جا سکتی، عوام ان کی آزادی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر انصاف ممکن نہیں، تمام مقدمات کا آئین کے مطابق جائزہ لیا جائے اور مشکوک مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے۔ شبلی فراز نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی اصولی مداخلت ناگزیر ہے۔
سورس اردو پوائنٹ
