ملتان/بہاولپور: جنوبی پنجاب میں جاری ریسکیو آپریشن کے دوران کشتیاں الٹنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں جبکہ آٹھ سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
حادثات اور متاثرہ علاقے
لیاقت پور، جلال پور پیروالا، منچن آباد، علی پور اور اُچ شریف میں دس کے قریب کشتی حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ سیلابی ریلے کے باعث سیت پور شہر کے بیشتر علاقے ڈوب گئے ہیں جہاں ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
تحصیل علی پور میں بیٹ چنہ، شیخانی، کوٹلہ اگر، مسن کوٹ بھوآ، شاہ وساوا اور خیرپور سادات کے متعدد علاقے بھی زیرِ آب آگئے ہیں۔
دریاؤں میں صورتحال
دریائے ستلج: ایمپریس برج کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے اور پانی تیزی سے تو والی، خانو والی اور بستی جام والا میں داخل ہو گیا ہے۔ احمد پور شرقیہ اور ملحقہ دیہات میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دریائے چناب: ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے تحصیل علی پور کے مزید علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
نقصانات اور مشکلات
سیلابی صورتحال کے باعث:
ایک لاکھ بیس ہزار ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔
دریائی پٹی کے 150 کلومیٹر علاقے میں 145 موضع جات بری طرح متاثر ہوئے۔
متعدد سڑکیں بہہ جانے سے کئی دیہات کا بہاولنگر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
دریائی بیلٹ میں 34 اسکول غیر معینہ مدت تک بند کر دیے گئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور مویشیوں کے چارے کی شدید کمی ہے۔
حکام کا مؤقف
ڈی جی ریسکیو اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نے کہا:
"جب بیک وقت تین دریاؤں میں سیلاب ہو اور تین لاکھ بیس ہزار افراد کو نکالنا پڑے، تو اس طرح کے حادثات کی شرح بہت کم ہے۔ اتنی بڑی آفت میں چھوٹے موٹے حادثات ہو ہی جاتے ہیں۔”
دیگر واقعات
ملتان کے موضع گردیز پور میں 25 سالہ محمد جعفر کی لاش سیلابی پانی سے برآمد ہوئی ہے۔
