چینی بحران: شوگر ملز نے 300 ارب روپے اضافی کمائے، سب سے زیادہ ملیں زرداری، ترین اور شریف خاندان کی نکلیں

0
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

چینی کی قیمت میں معمولی اضافے سے شوگر مافیا کی اربوں کی کمائی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد (30 جولائی 2025) – قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی کے حالیہ بحران میں شوگر مل مالکان نے 300 ارب روپے سے زائد کی اضافی آمدن حاصل کی۔ کمیٹی کے رکن ریاض فتیانہ نے بتایا کہ چینی کی قیمت بڑھا کر قوم کو 287 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان کے مطابق، صرف 42 خاندانوں نے چینی بحران سے یہ 300 ارب روپے کمائے، جبکہ رکنِ کمیٹی عامر ڈوگر نے دعویٰ کیا کہ سب سے زیادہ شوگر ملز آصف زرداری، دوسرے نمبر پر جہانگیر ترین اور تیسرے نمبر پر شریف خاندان کی ملکیت میں ہیں۔

ثناء اللہ مستی خیل نے اجلاس کے دوران کہا کہ چینی کی قیمت میں محض 1 روپے اضافے سے شوگر ملز کو 44 ارب روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔ چینی کی قیمت میں اضافے اور حکومت کی پالیسیوں نے ملز مالکان کو ریکارڈ منافع کمانے کا موقع دیا۔

دوسری جانب، ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2024 سے جون 2025 تک 67 شوگر ملز نے بیرون ملک 40 کروڑ ڈالر کی چینی برآمد کی، جن میں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، تاندلیاں والا، حمزہ، تھل انڈسٹریز اور المعیز انڈسٹریز شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے سب سے زیادہ 73,090 میٹرک ٹن چینی 11 ارب 10 کروڑ روپے میں ایکسپورٹ کی، تاندلیاں والا شوگر ملز نے 41,412 میٹرک ٹن چینی 5 ارب 98 کروڑ روپے میں، اور حمزہ شوگر ملز نے 32,486 میٹرک ٹن چینی 5 ارب 3 کروڑ روپے میں برآمد کی۔

اسی طرح، تھل انڈسٹریز نے 29,107 میٹرک ٹن چینی 4.55 ارب روپے، اور المعیز انڈسٹریز نے 29,453 میٹرک ٹن چینی 4.32 ارب روپے میں ایکسپورٹ کی۔ جے کے شوگر ملز، مدینہ، فتیما، ڈیہرکی، رمضان، انڈس، اشرف، شکرگنج، یونی کول اور حبیب شوگر ملز بھی لاکھوں ٹن چینی برآمد کر کے اربوں روپے کما چکی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادوں کی رمضان شوگر ملز نے 2 ارب 41 کروڑ روپے جبکہ جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو اور جے کے شوگر ملز نے مجموعی طور پر 15 ارب روپے سے زائد کی چینی برآمد کی۔

سورس اردو پوائنٹ

Exit mobile version