بھارتی سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ تمام مذاہب پر لاگو کرنے کی درخواست مسترد کر دی

0
pakalerts
pakalerts

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ آف انڈیا نے مودی حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کو تمام مذاہب پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کم عمری کی شادی ایک پیچیدہ قانونی اور مذہبی مسئلہ ہے، جس کے اطلاق کے لیے ہر مذہب کے مخصوص قوانین اور روایات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق، بچوں کی شادیوں کے تدارک کے لیے ملک میں پہلے سے ہی مختلف قوانین اور حکومتی پروگرامز موجود ہیں، لہٰذا چائلڈ میرج ایکٹ کا اطلاق مذہبی قوانین کے تحت محدود دائرے میں ہی رہے گا۔

مرکزی حکومت نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ’’پروہیبیشن آف چائلڈ میرج ایکٹ‘‘ کو تمام بھارتی شہریوں پر ان کے مذہب سے قطع نظر نافذ کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ تاہم عدالت نے اس بنیاد پر انکار کر دیا کہ یہ معاملہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے زیرِ غور ہے اور ابھی اس حوالے سے قانونی ابہام موجود ہے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 18 اکتوبر کو 141 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ یہ فیصلہ سوسائٹی فار انلائٹنمنٹ اینڈ والنٹری ایکشن نامی غیر سرکاری تنظیم کی درخواست پر سنایا گیا، جس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایکٹ کے نفاذ کے باوجود بھارت میں کم عمری کی شادیوں کی شرح اب بھی تشویش ناک ہے۔

این جی او نے سرکاری اداروں پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مؤثر اقدامات، آگاہی مہمات، ’’چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز‘‘ کی تعیناتی، اور کم عمر دلہنوں کے لیے تعلیمی، طبی اور مالی معاونت کے نظام کو مضبوط بنائے تاکہ ان کی فلاح و تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ ذاتی قوانین اور چائلڈ میرج ایکٹ کے درمیان تعلق اب بھی قانونی ابہام کا باعث ہے، جس پر مزید وضاحت پارلیمنٹ کی سطح پر ہونی چاہیے۔

Exit mobile version