ٹرمپ نے ظہران ممدانی کی جیت اور اپنی جماعت کے امیدوار کی ہار کا ذمہ دار 2 وجوہات کو قرار دے دیا

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

34 سالہ ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اورامریکی حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلوا سے تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کی جیت اور اپنی جماعت کے امیدوار کی ہار کا ذمہ دار 2 وجوہات کو قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ظہران ممدانی کے نویارک کا میئر منتخب ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آیا جس میں انہوں نے حمران جماعت کے امیدوار کی ہار کی 2 وجوہات بیان کیں، اس حوالے سے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ریپبلکنز کی شکست کی دو بڑی وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا اور دوسری وجہ امریکہ میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن ہے، جس نے پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کیں۔خیال رہے کہ ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتہائی بااثر شخصیت ایلون مسک کی کھلے عام مخالفت کے باوجود نیو یارک کا پہلا مسلمان میئر منتخب ہو کر تاریخ رقم کردی، 34 سالہ ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اورامریکی حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلوا سے تھا، یہ الیکشن کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوا کیونکہ 2001ء کے بعد پہلی بار نیویارک کے میئر انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا، تقریباً 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے پولنگ سٹیشنز پر جا کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔بتایا جارہا ہے کہ 991ء میں یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے، ان کی والدہ فلم ساز میرا نائر آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوچکی ہیں جبکہ والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، ان کی اہلیہ رما دواجی شامی ایک معروف آرٹسٹ ہیں، ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے مسائل کو اجاگر کیا، ان کا ایجنڈا سستی رہائش، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، یونیورسل چائلڈ کیئر اور متوسط طبقے کے لیے سہولتوں کے فروغ پر مبنی تھا۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کریں گے، شہر میں ٹرانسپورٹ مفت ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، عوامی رابطہ مہم کے دوران وہ نیویارک کے شہریوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی کھلی اور دوٹوک آواز کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ ان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے۔بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ نیو یارک سٹی کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کئی حوالوں سے قابل ذکر ہیں، وہ 1892ء کے بعد یعنی سو سال سے بھی زیادہ عرصہ میں نیویارک شہر کے میئر بننے والے سب سے کم عمر شخص ہوں گے، اس کے علاوہ وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے ساتھ ساتھ اس شہر کے پہلے افریقی نژاد میئر ہوں گے، ظہران ممدانی کے نیویارک شہر کے میئر منتخب ہونے کی خبر کے بعد سابق امریکی صدر باراک اوباما نے جیتنے والے تمام ڈیموکریٹک امیدواروں کو مبارکباد دی، اوباما نے کہا کہ ظہران ممدانی کی کامیابی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مضبوط مستقبل کی جانب دیکھنے والے رہنماؤں کے ارد گرد اکٹھے ہوتے ہیں جو لوگوں کے مسائل کا خیال رکھتے ہیں، تو ہم جیت سکتے ہیں، ہمیں اب بھی کافی کام کرنا ہے لیکن اب مستقبل تھوڑا سا روشن نظر آ رہا ہے۔

Exit mobile version