وفاقی آئینی عدالت کے مزید 2 ججز نے حلف اٹھا لیا، ججز کی تعداد 7 ہوگئی

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی تقریب میں جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے بطور جج وفاقی آئینی عدالت حلف اٹھایا

 حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والی وفاقی آئینی عدالت کے مزید 2 ججز نے حلف اٹھا لیا جس کے ساتھ ہی عدالت کے مجموعی ججز کی تعداد 7 ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی تقریب میں جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے وفاقی آئینی عدالت کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کانفرنس روم میں وفاقی آئینی عدالت کے مزید دو ججوں کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، تقریب میں آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے دونوں ججوں سے حلف لیا، جس کے بعد آئینی عدالت میں ججز کی کل تعداد 7 ہوگئی۔بتایا گیا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے شرکت کی، اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے عہدیداران اور وکلاء بھی موجود تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ اس سے پہلے جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی آئینی عدالت کے جج کے طور پر حلف اٹھا چکے ہیں، جسٹس کریم خان آغا نے بھی وفاقی آئینی عدالت کے جج حلف اٹھایا، چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے سب سے پہلے ایوانِ صدر میں اپنا حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد انہوں نے آئینی عدالت کے دیگر ججز سے حلف لیا۔دوسری طرف 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کے مستعفی ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور اب لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا، جسٹس شمس محمود مرزا نے صدر آصف علی زرداری کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا، ایک کیس کی سماعت میں جسٹس شمس محمود مرزا نے آئینی ترمیم کے بعد اپنے اختیارات میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور جس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر استعفیٰ جمع کروا دیا۔اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود 26 ویں ترمیم کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے محروم کر دیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کردیا۔

Exit mobile version