اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو دفعہ 144 اور ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت دیگر الزامات سے بری کردیا ہے۔ مقدمے میں عمران خان، اسد قیصر، سیف اللہ نیازی، شیخ رشید، صداقت عباسی، فیصل جاوید اور علی نواز کو شامل کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ اگست 2022 میں اس وقت درج کیا گیا جب عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری اور ایک نجی ٹی وی چینل کے لائسنس کی معطلی کے خلاف عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تھی، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 نافذ کردی تھی۔ پابندیوں کے باوجود پی ٹی آئی کے حامیوں کی بڑی تعداد زیرو پوائنٹ سے ایف نائن پارک تک عمران خان کی قیادت میں ریلی کی صورت میں پہنچی، جہاں انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔
ریلی کے دوران الزام تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور کنٹرول آف لاوڈ اسپیکر ایکٹ 1965 کے تحت غیر قانونی طور پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا۔ اے ایس آئی محمد انور کی شکایت کے مطابق ریلی کے شرکاء نے حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور عوام کو روڈ بلاک کرکے پریشان کیا۔
عدالت نے اس مقدمے میں ملزمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور دیگر رہنماؤں کو مقدمے سے بری کر دیا۔
