پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی اور انتخابی نشان بلے سے متعلق فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما علی بخاری نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں قائم ٹربیونل کو ن لیگی امیدواروں کی درخواست پر بغیر چیف جسٹس سے مشاورت کے تبدیل کیا، جو کہ غیر قانونی ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر پہلے ٹربیونل کو بحال کیا جائے۔
مزید برآں، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلے کا نشان نہ دینے کے فیصلے پر بھی سپریم کورٹ میں کیوریٹیو پٹیشن دائر کی ہے۔ ایڈووکیٹ اجمل غفار طور کی جانب سے 32 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے 13 جنوری اور 21 اکتوبر کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں 22 اگست کے مبارک احمد ثانی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں نظر ثانی کے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک نظیر قائم کی تھی، اور ایسے فیصلے جو کسی قانونی غلطی پر مبنی ہوں، انہیں درست کرنا انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنی کیوریٹیو پٹیشن میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ درخواست نہ صرف انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس میں عوامی اہمیت کے قانونی نکات بھی شامل ہیں، اور سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ ان نکات پر غور کرتے ہوئے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔
