جسٹس عاصم حفیظ نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے خلاف درخواست پر فیصلہ سنایا،عدالت نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے خلاف درخواست کو منظور کرلیا
لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نادرا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم
لاہور ہائی کورٹ نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ شہری اشبا کامران نے لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کی نادرا میں بطور چیئرمین تقرری کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین نادرا کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ نگران حکومت نے نادرا کے قوانین میں ترامیم کرکے ایک حاضر سروس فوجی افسر کو چیئرمین مقرر کیا، جو کہ نگران حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت نادرا ترمیمی رولز کو کالعدم قرار دے اور فوجی افسر کی تقرری کو بھی مسترد کرے۔
یاد رہے کہ نگران وفاقی حکومت نے اکتوبر 2023 میں لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو نادرا کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی زیرصدارت اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سمری پر تین ناموں میں سے لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی تقرری کی منظوری دی تھی۔ کابینہ نے سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نادرا کے نئے چیئرمین کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو تعینات کیا جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے اکتوبر 2022 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پائی تھی اور انہوں نے نادرا کے پچھلے چیئرمین اسد رحمٰن گیلانی سے چارج لیا، جو کہ 2023 میں طارق ملک کے استعفے کے بعد چیئرمین نادرا بنے تھے۔
