عدالت نے ملزمہ کی 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، ملزمہ ذہنی مریضہ ہے۔ اگست 2005ءسے اس کا علاج چل رہا ہے،ملزمہ کے وکیل کا عدالت میں موقف
کراچی کی عدالت نے کارساز حادثے کی ملزمہ کو ضمانت پر رہا کر دیا: متاثرہ خاندان نے معاف کر دیا!
کراچی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرقی نے کارساز حادثے کی ملزمہ کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ذہنی بیماری کا شکار ہے اور اگست 2005ء سے علاج جاری ہے۔ ملزمہ کے پاس یو کے کا ڈرائیونگ لائسنس بھی ہے جو پاکستان میں 6 ماہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہلاک شدگان کے ورثاء نے اللہ کے نام پر ملزمہ کو معاف کر دیا ہے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت میں نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کروائے، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور بعد میں ضمانت منظور کر لی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشہ دانش اور جاں بحق ہونے والے دو افراد کے لواحقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ جاں بحق عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا نے حلف نامے تیار کر لیے ہیں، جو آج ملزمہ کی ضمانت کی سماعت میں پیش کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، نتاشہ کے اہل خانہ نے آمنہ کے ورثا کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کے طور پر ادا کیے ہیں، اور رقم پے آرڈر کے ذریعے منتقل کی گئی ہے۔ مزید برآں، آمنہ کے رشتہ داروں کو کمپنی میں ملازمت بھی دی جائے گی۔
حفاظتی تدابیر کے تحت، جاں بحق عمران عارف کی اہلیہ رومانہ عمران، بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی عمیمہ کی جانب سے نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کروایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ بھی صلح کی گئی ہے اور انہیں الگ سے رقم ادا کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دیت کا معاہدہ شرعی قوانین کے مطابق کیا گیا ہے۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ کو ضمانت دینے پر کسی کو اعتراض نہیں ہے، اور یہ کہ حادثہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔ متاثرہ فیملی نے اللہ کے نام پر معافی کا اعلان کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حلف نامے میں بیان کردہ معلومات درست ہیں۔
