وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ چونکہ چیف جسٹس کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے، اس لیے اس تقریب میں شرکت کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "نئے چیف جسٹس سب کے چیف جسٹس ہیں، اور جب جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس پاکستان تسلیم کر لیا تو ہم بھی کر لیں گے۔” تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کرتے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی اولین ترجیح عمران خان کی رہائی ہے اور ان کی جماعت اسی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے کسی اجلاس کی صدارت نہیں کی اور انہوں نے بشریٰ بی بی کو غیرسیاسی شخصیت قرار دیا، جو سیاست میں مداخلت نہیں کرتیں۔
نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقریبِ حلف برداری میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سروسز چیفس، چاروں صوبوں کے گورنرز و وزرائے اعلیٰ، سپریم کورٹ کے ججز، وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ حلف برداری کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور ان کا نام ویب سائٹ پر بھی چیف جسٹس پاکستان کے طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
