مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان کی زندگی کو بدلنے جا رہی ہے، لیکن اس سے روزگار کے خاتمے اور سماجی و معاشی عدم مساوات میں اضافے کا حقیقی خطرہ بھی موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ اس تبدیلی کو کیسے سنبھالا جائے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد اس کے نقصانات پر غالب آ سکیں۔
کوئی اس موضوع پر حد سے زیادہ خوفزدہ ہو یا پرامید، مصنوعی ذہانت کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں رہا کیونکہ یہ لوگوں کی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی کے ہر گوشے میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ برسوں سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں انسان کو مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔ ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 2024 میں سلامتی کونسل کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانیت کا مستقبل کبھی بھی الگورتھم کو سونپا نہیں جا سکتا۔انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے فیصلوں پر ہمیشہ انسان کی نگرانی اور کنٹرول ہونا چاہیے۔
اب اقوام متحدہ کے مختلف ادارے ‘عالمی ڈیجیٹل معاہدے’ کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اور عالمی سطح پر اس کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

UN News (AI-generated)
مصنوعی ذہانت تک رسائی کو مشمولہ نہ کیا گیا تو امیر اور غریب ممالک میں عدم مساوات مزید بڑھ جائے گی۔
اس موضوع پر درج ذیل نکات خاص اہمیت رکھتے ہیں:
1۔ تعلیم کا بنیادی کردار
اقوام متحدہ مسلسل واضح کرتا آیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں لوگوں کو موثر بنانے میں تعلیم کا کلیدی کردار ہو گا۔ یہ محض تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کے آلات شامل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق اس امر کو یقینی بنانے سے ہے کہ طلبہ اور اساتذہ دونوں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے باخبر ہوں۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) میں شعبہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی سربراہ شافیکا آئزکس کا کہنا ہے کہ 2030 تک دنیا کو چار کروڑ 40 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہو گی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اساتذہ پر سرمایہ کاری کے بجائے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یہ ٹیکنالوجی معلومات ضرور منتقل کر سکتی ہے لیکن اسے انسانی ترقی کا متبادل نہیں کہا جا سکتا۔تعلیم بنیادی طور پر ایک سماجی، انسانی اور ثقافتی تجربہ ہے، نہ کہ کوئی تکنیکی فائل، جسے ڈاؤن لوڈ کر لیا جائے۔
2۔ تبدیلی قبول کرنے کی ضرورت
دنیا بھر میں بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت کے باعث نوکریاں ختم ہونے کے خدشے میں مبتلا ہیں۔ عالمی معاشی فورم سے وابستہ ایک ادارے کے مطابق، 2025 میں 41 فیصد آجرمصنوعی ذہانت کی وجہ سے اپنی افرادی قوت کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ایسے نئے شعبے اور کردار بھی سامنے آئیں گے جو انسانی صلاحیتوں کو مشینی طاقت کے ساتھ جوڑیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ مشینیں نمونے پہچاننے اور دہرائے جانے والے کاموں میں ماہر ہوتی ہیں لیکن تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، اخلاقی سوچ اور پیچیدہ انسانی روابط اب بھی انسان ہی سے مخصوص ہیں۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے باعث ہر چار میں سے ایک نوکری ضرور تبدیل یا ختم ہو گی لیکن اس کا لازمی مطلب مجموعی طور پر روزگار میں کمی آنا نہیں۔البتہ کام کرنے کے طریقے ضرور بدلیں گے جس کے لیے کارکنوں کو زیادہ لچکدار، سیکھنے کے لیے تیار اور زندگی بھر نئی مہارتیں حاصل کرنے کے لیے آمادہ ہونا پڑے گا۔
© Unsplash/Ecliptic Graphic
دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان تفاعل انسانی اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق کا تعین کرے گا۔
3۔ مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی
اس وقت مصنوعی ذہانت کے بارے میں تحقیق اور نئے آلات کی تیاری پر چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیحاوی ہیں۔ اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسیع نہ کیا گیا تو ممالک کے درمیان اور معاشروں کے اندر عدم مساوات مزید بڑھ جائے گی۔
اقوام متحدہ کی حکمت عملی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیمی، معاشی اور حکومتی پالیسیاں اس بات کو یقینی بنائیں کہمصنوعی ذہانت کے فوائد صرف چند مراعات یافتہ یا ترقی یافتہ طبقات تک ہی محدود نہ رہیں۔
4۔ انسانی حقوق کی ترجیحی اہمیت
اقوام متحدہ مسلسل واضح کرتا آیا ہے کہمصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی حقوق، وقار اور شمولیت کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور بے لگام خودکاری کے سنگین سماجی نتائج ہوں گے۔
2021 میں یونیسکو نے عالمی ماہرین سے مشاورت کے بعد مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں پر مبنی ایک سفارش جاری کی جس میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کوئی اختیاری چیز نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے پائیدار نظام کی بنیادی شرط ہیں۔
اس دستاویز کے مطابق، ایسی ٹیکنالوجی پر پابندی لگائی جانی چاہیے یا اسے مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جانا چاہیے جو انسانی وقار، مساوات یا آزادی کے لیے خطرہ ہو اور حکومتوں کو ان اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے۔
© Unsplash/Igor Omilaev
مصنوعی ذہانت کی تربیت میں جی پی یو کا اہم کردار ہے۔
5۔ عالمگیر اتفاق رائے
یہ ایسا مسئلہ نہیں جسے کوئی ایک حکومت، نجی شعبہ یا سول سوسائٹی اکیلے حل کر سکے۔ اسی لیے اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اور خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعاون کی اپیل کر رہا ہے۔
اس تعاون میں عالمگیر مکالمہ، اخلاقی اور انتظامی طریقہ ہائے کار، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رابطہ پلیٹ فارم اور تعلیم و افرادی قوت کو جدید بنانے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری شامل ہو سکتے ہیں۔