کوئٹہ: بلوچستان کے وزیرِ آبپاشی میر صادق عمرانی نے کہا ہے کہ زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کے فیصلے نے صوبے میں پانی کا بحران مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ سولر نظام کے ذریعے چوبیس گھنٹے پانی نکالنے سے زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس کے بعد جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ واپڈا حکام نے ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کر کے غلط فیصلہ کیا۔ پہلے کیسکو زمینداروں کو صرف چار گھنٹے بجلی فراہم کرتی تھی اور اس کا بل بھی وصول کرتی تھی، جس کی وجہ سے زمیندار بجلی کے استعمال میں احتیاط کرتے تھے۔ اب سولر کے باعث پانی مسلسل نکالا جا رہا ہے، جس سے پانی کا گراف خطرناک حد تک گر رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نصیر آباد کے نہری نظام میں بھی پانی کی شدید قلت ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں زراعت کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا محکمۂ زراعت کی ذمہ داری ہے۔
