خان کی تین بہنیں

0
pakalerts
pakalerts

عمران خان کی تینوں بہنوں کو اڈیالہ جیل کے باہر سرد موسم میں رات بھر دھرنا دیتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف یہ دکھ ہے کہ حکومت انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتی، اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی پریشان کن ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹرز اور سپورٹرز میں سے کوئی ان کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آ رہا۔ صورتحال یہ ہے کہ بہنیں تنہا چند کارکنوں کے ساتھ شدید سردی میں احتجاج پر مجبور ہیں۔

تحریک انصاف کے کئی رہنما—جیسے شہباز گل اور قاسم سوری—اور ہزاروں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ملک سے باہر بیٹھ کر یا صرف آن لائن بیانیہ بنا کر خود کو عمران خان کا سپاہی ظاہر کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ ملک کے اندر کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ یہی طبقہ اصل میں عمران خان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ سوشل میڈیا پر بدزبانی، گالم گلوچ، اور ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ عمران خان اور ان کے خاندان کی قانونی مشکلات بھی بڑھا دیں۔

آج اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان کی عمر رسیدہ بہنیں، جن پر خود مقدمات بھی قائم ہوئے اور جنہوں نے جیل بھی دیکھی، اپنے بھائی کی رہائی کے لیے روزانہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ وہ لوگ جو خود کو پارٹی کا اصل محافظ کہتے ہیں، کہیں نظر نہیں آتے۔

حال ہی میں حکومتی وزراء نے بیان دیا کہ اگر عمران خان چاہیں تو انہیں اور بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کیا جاسکتا ہے اور گھر کو سب جیل قرار دیا جا سکتا ہے۔ بظاہر عمران خان خود ایسی کوئی درخواست نہیں کریں گے، لیکن بہتر یہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس معاملے میں ازخود فیصلہ کرے، دونوں کو بنی گالا منتقل کرے اور قریبی رشتہ داروں سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دے۔ اس قدم سے سیاسی ماحول میں نرمی آئے گی اور مذاکرات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

ساتھ ہی ضروری ہے کہ تحریک انصاف کی سنجیدہ قیادت پسِ پردہ رابطے بحال کرے اور بغیر میڈیا کی مداخلت کے سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ نکالے۔ بصورتِ دیگر اگر معاملات پارٹی کے بھگوڑوں، گالیوں پر چلنے والے سوشل میڈیا بریگیڈ یا نام نہاد انقلابی یوٹیوبرز پر چھوڑ دیے گئے، تو نہ عمران خان اور نہ بشریٰ بی بی کی مشکلات کم ہوں گی، اور نہ ہی ان کی بہنوں کو سڑکوں پر دھرنے دینے سے نجات ملے گی۔

Exit mobile version