بھارت کی آبی جارحیت: پنجاب کے دریا بپھر گئے، انتظامیہ ہائی الرٹ، خیمہ بستیاں قائم

0
pakalerts.pk

لاہور (27 اگست 2025): بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ کئی علاقوں میں سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہو چکے ہیں، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کر دی گئی ہیں اور مساجد سے اعلانات کے ذریعے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

پنڈی بھٹیاں

سیلاب کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ نے متاثرین کے لیے خیمہ بستی قائم کر دی ہے۔ مقامی افراد کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ مساجد میں مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

گجرات و پسرور

گجرات میں آج عام تعطیل کر دی گئی ہے جبکہ شہباز پور پل کے نیچے پھنسے 20 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ سیالکوٹ کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دریاؤں کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

اوکاڑہ

دریائے راوی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ ماڑی پتن کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ کے باعث قریبی دیہات سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 73 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے فلڈ کیمپ قائم کر دیے ہیں۔

قادرآباد و جلالپور بھٹیاں

دریائے چناب میں قادرآباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 78 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ جلالپور بھٹیاں اور گردونواح کے دیہات میں سیلابی پانی داخل ہونے سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

حویلی لکھا

ہیڈ سیلمانکی کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ متعدد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں اور زرعی زمینیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

وزیرآباد

بیلہ کے گاؤں نوگراں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انتظامیہ اور پاک فوج نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ مساجد سے حفاظتی اعلانات بھی جاری ہیں۔

لاہور و اطراف

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب کا بہاؤ 7 لاکھ 69 ہزار کیوسک اور خانکی بیراج پر 7 لاکھ 5 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ دونوں مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Exit mobile version