امریکی میڈیا کے مطابق معروف قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک کے مبینہ قاتل کی شناخت 22 سالہ ٹائلر رابنسن کے طور پر کر لی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹائلر رابنسن گن کلچر کا شوقین تھا اور اکثر شوٹنگ رینجز میں جاتا تھا۔ اس کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ چارلی کرک کو سخت ناپسند کرتا تھا اور اسے ’’نفرت سے بھرپور شخص‘‘ قرار دیتا تھا۔
مبینہ قاتل یوٹاہ کے علاقے واشنگٹن میں ایک چھ کمروں کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے اور منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ چارلی کرک کو گزشتہ روز یوٹاہ یونیورسٹی میں تقریر کے دوران گولی ماری گئی تھی، جب وہ گن کنٹرول اور ہجوم پر فائرنگ کے موضوع پر بات کر رہے تھے۔
چارلی کرک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور اسرائیل نواز موقف رکھتے تھے۔ وہ "ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے” نامی تنظیم کے بانی بھی تھے جو 2012 میں قائم کی گئی اور تعلیمی اداروں میں قدامت پسند نظریات کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
