اسلام آباد حکومت کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ کے آپریشنز متحدہ عرب امارات کے سپرد کرنے کی منظوری کے بعد سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو یو اے ای کے حوالے کرنا ایک مثبت فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بھی کوشش کی گئی تھی کہ قطر اس ایئرپورٹ کی مینجمنٹ سنبھالے مگر یہ معاہدہ مکمل نہ ہو سکا۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اگر یہ ایئرپورٹ دبئی ایئرپورٹ کے معیار کا آدھا بھی بہتر بنا دیا گیا تو یہ پاکستان کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے بین الحکومتی تجارتی لین دین کے اجلاس میں، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز یو اے ای کے حوالے کرنے کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی قیادت میں ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو دفاع، خزانہ، قانون اور نجکاری کی وزارتوں کے سینئر حکام کے تعاون سے ابوظہبی کے ساتھ معاہدے کی شرائط طے کرے گی۔
یہ معاہدہ پاکستان کے نجکاری اور معاشی اصلاحات کے پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مالی نقصانات کو کم کرنا ہے۔ 2018ء میں تعمیر ہونے والا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جس پر ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت آئی، ملک کی سب سے بڑی ہوا بازی کی سہولت ہے۔ یہ ایئرپورٹ سالانہ 15 ملین مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل میں 25 ملین تک توسیع کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم جدید سہولتوں کے باوجود اس ہوائی اڈے کو انتظامی کمزوریوں اور مالی مسائل کا سامنا رہا، جس کے باعث حکومت نے اس کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ شراکت داری عالمی معیار کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کو ایک جدید اور موثر سہولت میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق یو اے ای کی مہارت کی بدولت نہ صرف مسافروں کے سفر کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو خطے کا نمایاں ہوا بازی مرکز بھی بنایا جا سکے گا۔
