لاہور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں موسلا دھار بارش کے بعد جناح اسپتال کی ایمرجنسی بارش کے پانی میں ڈوب گئی۔ وقفے وقفے سے جاری بارش کے باعث نہ صرف ایمرجنسی وارڈ میں پانی کھڑا ہوگیا بلکہ حال ہی میں تزئین و آرائش شدہ حصوں کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا۔ اس صورتحال سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر نکاسی آب کے اقدامات شروع کر دیے۔
بارش کے نئے اسپیل نے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ فیروزوالہ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوئے۔ فیصل آباد، نارووال، بہاولنگر اور دیگر شہروں میں بھی موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور کئی مقامات پر بجلی کا نظام معطل ہوگیا۔
ملکہ کوہسار مری میں بھی شدید بارش ہوئی جبکہ آزاد کشمیر کے میرپور اور باغ سمیت مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا۔ ایبٹ آباد اور خیبرپختونخواہ کے دیگر شہروں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے اور نشیبی علاقوں میں سیلاب جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتے سے منگل تک بارش کا امکان ہے، جبکہ لاہور، سیالکوٹ اور شمالی و جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بھی اگلے چند روز بادل برسنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
