کشمیر ، فلسطین میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں،جو افسوسنا ک ہیں، ڈاکٹر حمیرا طارق…اسلامی دنیا کی خاموشی ظالموں کی حوصلہ افزائی ہے،قدسیہ ناموس
اسلام آباد جماعت اسلامی پاکستان کے تحت 5 اگست کو ملک بھر میں یومِ حقوق کشمیر و فلسطین منایا گیا،اس موقع پر مختلف شہروں میں اجتماعات، دروسِ عامہ، اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کا دن کشمیری عوام کی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے آئین کی دفعات 370 اور 35A ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔
اس اقدام کے بعد کشمیریوں کو ان کے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، انٹرنیٹ بندش، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں اور قابض بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ اس ریاستی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر حمیرا نے کہا کہ اسرائیل بھی غزہ میں امریکہ کی سرپرستی میں بدترین درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
معصوم فلسطینی بچوں، خواتین اور شہریوں کو بھوک، پیاس اور بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری اور فلسطینی عوام پر جاری مظالم کے خلاف فوری، جرات مندانہ مؤقف اختیار کرے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد کی ناظمہ قدسیہ ناموس نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد نے 5 اگست کو مختلف اجتماعات اور دروسِ قرآن و سیرت کے ذریعے عوام میں کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی ظالموں کی پشت پناہی کے مترادف ہے، جو افسوسناک ہے۔قدسیہ ناموس نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے ان پروگرامز میں شہدائے کشمیر و فلسطین کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور ان کی لازوال جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کی خاموشی ظالم قوتوں کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ متحد ہو کر ان مظلوموں کا ساتھ دے۔
