کب تک خوبصورت الفاظ اور دلکش جملوں سے عوام کو بہلایا جاتا رہے گا، مولانا فضل الرحمان

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

ہمارے لوگ اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہے ہیں، ملکی سلامتی داؤ پر لگ چکی، پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی اس تاثر کو مضبوط کر رہی ہے کہ طاقتور قوتیں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کیلئے قوانین بنارہی ہیں؛ کنونشن سے خطاب

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ چیلنج کرتا ہوں ایک حلقے کا نتیجہ الیکشن کمیشن نے تیار نہیں کیا بلکہ سارے نتائج باہر سے آتے ہیں، ایسا کٹھ پتلی کمیشن پوری دنیا میں کہیں نہیں۔ اسلام آباد میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہے ہیں، ملکی سلامتی داؤ پر لگ چکی، پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی اس تاثر کو مضبوط کر رہی ہے کہ طاقتور قوتیں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کیلئے قوانین بنارہی ہیں، کب تک خوبصورت الفاظ اور دلکش جملوں سے عوام کو بہلایا جاتا رہے گا۔جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک غزہ بیس آف بورڈ کا حصہ نہیں بن رہے لیکن اسلامی ممالک بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اس بورڈ میں نیتن یاہو بھی شامل ہے، انسانیت کا قاتل مسلمانوں کا قاتل ایک وحشی وہ اس بورڈ کا حصہ ہو تو مسلم حکمرانوں کو شرم آنی چاہیئے، ہماری عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اس کی روش سے اختلاف کیا تھا لیکن آپ تو اس سے دو قدم آگے جارہے ہیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے۔مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ غزہ میں ستر ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، اس نسل کشی کے پیچھے امریکی بمبار طیارے اور اس کا بارود اس کا ڈالر کار فرما ہے اور ہمارا وزیراعظم کہتا ہے ٹرمپ کو امن کا عالمی ایوارڈ ملنا چاہیئے، نوکری اور خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، ہمارے علاقوں کے لوگ یہ تاثر لے رہے ہیں کہ یہ اب وہ پاکستان نہیں رہا اور اس بے یقینی کے اثرات اسلام آباد تک پہنچ چکے ہیں جہاں مسجد کے اندر نمازیوں کو تڑپایا گیا جو اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی رٹ کمزور ہو چکی ہے، ایک جنرل مذاکرات کی بات کرتا ہے تو دوسرا جنگ کا بیانیہ دیتا ہے، ایسے میں جب عملی طور پر حکومت کہیں نظر نہیں آتی تو فیصلے جرنیلوں کے ہاتھ میں محسوس ہوتے ہیں۔

Exit mobile version