کراچی: پاکستان کا معاشی مرکز کراچی شدید ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہے کیونکہ شہر کی ساحلی پٹی مسلسل دھنستی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق 2014 سے 2020 کے دوران لانڈھی اور ملیر کی زمین 15.7 سینٹی میٹر تک دھنس چکی ہے۔
ماہرین کی تشویش
ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر یاسر حسین نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیماڑی سے اسٹیل ٹاؤن تک ساحلی زمین تیزی سے دھنس رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ:
- ایک طرف سمندر کی سطح بلند ہورہی ہے۔
- دوسری جانب زمین دھنسنے کے باعث یہ خطہ ایک "پیالہ نما” شکل اختیار کر رہا ہے۔
- اگر معمولی سا بھی سونامی آیا تو یہ علاقہ زیرِ آب آسکتا ہے۔
بے ہنگم تعمیرات اور خطرناک رجحان
یاسر حسین کے مطابق شہر میں ہونے والی تعمیرات ماسٹر پلان کے بغیر کی جا رہی ہیں۔
- کنکریٹ کے پھیلاؤ سے بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سیدھا گٹر اور نالوں میں جاتا ہے۔
- زمین دھنسنے کی رفتار کے اعتبار سے کراچی دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، چین کے شہر تیانجن کے بعد۔
- اس رجحان سے ساحلی پٹی پر قائم عمارتوں کے زمیں بوس ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
مستقبل کے خطرات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ:
- زیر زمین پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال،
- بے جا تعمیرات،
- اور ساحلی زمینوں کا غیر منصوبہ بند استعمال
آنے والے برسوں میں شدید سیلابی اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کی تجاویز
- فوری طور پر بورنگ پر پابندی عائد کی جائے۔
- عوام کو متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
- منصوبہ بندی کے بغیر نئی تعمیرات پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔
سنگین وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر "معمولی عمل” مستقبل میں کراچی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اربابِ اختیار نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ شہر خدا نخواستہ صرف نقشے پر باقی رہ جائے گا۔
