بھارتی آبی جارحیت برقرار، ستلج میں بڑے سیلابی ریلے کا خطرہ

0
pakalerts
pakalerts

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور دریائے ستلج میں مزید بڑے سیلابی ریلے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارت نے ستلج میں پانی کے بڑھے ہوئے بہاؤ سے متعلق نیا الرٹ جاری کیا ہے۔ ہری کے اور فیروزپور کے مقامات سے نیچے دریائے ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے بدھ کے روز ایک اور ہائی فلڈ الرٹ جاری کیا گیا، جس پر وزارتِ آبی وسائل نے تمام چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔


کراچی کی ساحلی پٹی کو خطرہ

دوسری جانب پاکستان کا معاشی حب کراچی بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2020 کے دوران لانڈھی اور ملیر کی زمین 15.7 سینٹی میٹر تک دھنس چکی ہے۔

کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کیماڑی سے اسٹیل ٹاؤن تک کی ساحلی پٹی مسلسل دھنس رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور دوسری جانب زمین بیٹھ رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ "پیالہ نما” شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اگر خدا نخواستہ ہلکی سی بھی سونامی کی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ پورا علاقہ پانی میں ڈوب سکتا ہے۔


غیر منصوبہ بندی تعمیرات خطرناک قرار

یاسر حسین کے مطابق حکومتی سطح پر ہونے والے تعمیراتی کام ماسٹر پلان کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"جب آپ کنکریٹ کا شہر بنا دیتے ہیں تو بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے براہِ راست گٹر اور نالوں کے ذریعے سمندر میں گرتا ہے، جس سے ماحولیاتی مسائل بڑھ جاتے ہیں۔”

رپورٹ کے مطابق زمین کے دھنسنے کی یہ شرح چین کے شہر تیانجن کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کراچی کی ساحلی پٹی پر قائم عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔


ماہرین کی وارننگ

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال، بے ہنگم تعمیرات اور ساحلی زمینوں کا غیر ضروری استعمال مستقبل میں شدید سیلابی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بورنگ پر فوری پابندی عائد کی جائے اور عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے متبادل ذرائع مہیا کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ عمل آئندہ چند برسوں میں کراچی کے لیے بڑی ماحولیاتی تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اربابِ اختیار نے فوری اقدامات نہ کیے تو خدانخواستہ یہ شہر محض نقشے پر ہی باقی رہ جائے گا۔

Exit mobile version