اسلام آباد: لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 27 اکتوبر کو بھارتی جارحیت کے خلاف یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کو یہ یاد دلانا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی ریلیاں، واکس، سیمینارز، تصویری نمائشیں اور یکجہتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک مرکزی یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا، جبکہ شاہراہ دستور، پارلیمنٹ ہاؤس اور ڈی چوک کو "کشمیر بنے گا پاکستان” کے بینرز اور فلیکسز سے سجا دیا گیا ہے۔
ملک کے بڑے شہروں — اسلام آباد، مظفرآباد، لاہور، کراچی اور پشاور — میں بھی یومِ سیاہ کے سلسلے میں ریلیاں اور یکجہتی واکس منعقد ہوں گی۔ صبح 10 بجے کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
یومِ سیاہ کی تقریبات میں کشمیری عوام کے ساتھ ایمانی رشتہ، یکجہتی اور عزمِ آزادی کا اظہار کیا جائے گا۔ شرکاء عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ وہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت اسکولوں اور کالجوں میں بھی یومِ سیاہ کی خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا۔
یہ دن کشمیریوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور بھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف آواز بلند کرنے کے عزم کی تجدید کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
