روس کی وارننگ، یورپی رہنماؤں اور زیلنسکی کی ٹرمپ سے پیرس میں بات چیت

0
109
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

لندن: روس کی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ماسکو کسی بھی امن معاہدے کے تحت یوکرین میں مغربی افواج کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی جمعرات کو پیرس میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے تھے۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا:
"روس کسی بھی صورت یوکرین میں غیر ملکی مداخلت پر بات نہیں کرے گا۔ مغربی جنگی منصوبہ ساز یوکرین کو اپنی فوجی ٹیکنالوجی آزمانے کی تجربہ گاہ سمجھتے ہیں۔”

روس بارہا اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے کہ مغربی افواج کو کسی بھی شکل میں یوکرین بھیجا جائے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کا حصہ بنایا جا سکے۔ لیکن یہ معاملہ اب بھی نیٹو رہنماؤں اور یوکرینی حکومت کے درمیان زیرِ غور ہے، کیونکہ کیف کا کہنا ہے کہ امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے لیے ایسے سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔

زاخارووا نے مزید کہا کہ "یہ نام نہاد سکیورٹی گارنٹیز دراصل یوکرین کے لیے نہیں بلکہ پورے یورپی براعظم کے لیے خطرے کی ضمانت ہیں۔”

یہ بیانات زیلنسکی کی یورپی رہنماؤں کے اتحاد کے ساتھ پیرس میں ہونے والی ملاقات سے قبل سامنے آئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس اجلاس کے دوران شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی فون پر گفتگو کی۔

امریکی صدر نے زور دیا کہ "یورپ کو فوری طور پر روسی تیل خریدنا بند کرنا چاہیے کیونکہ صرف ایک سال میں یورپی یونین نے روس کو ایندھن کی مد میں 1.1 ارب یورو ادا کیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یورپی ممالک کو چین پر بھی اقتصادی دباؤ ڈالنا ہوگا، جو روس کی جنگی کوششوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔”\

اجلاس کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا کہ یورپی اور کینیڈین رہنماؤں نے یوکرین کے لیے ممکنہ سکیورٹی گارنٹیز کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ان کے مطابق، 26 ممالک اس پر براہِ راست عمل کرنے کے لیے تیار ہیں، اور کئی ممالک زمینی، بحری اور فضائی مدد فراہم کریں گے تاکہ جنگ بندی کے بعد امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اب امریکا کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ آئندہ دنوں میں اسے باضابطہ بنایا جا سکے۔

اجلاس میں شامل دیگر اہم رہنماؤں میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب، ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈریکسن اور پولینڈ کے وزیرِاعظم ڈونلڈ ٹسک شامل تھے۔ کئی دیگر یورپی رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد زیلنسکی سے الگ گفتگو بھی کی، جسے یوکرینی صدر نے "طویل اور تفصیلی بات چیت” قرار دیا۔ زیلنسکی کے مطابق، دونوں نے حقیقی امن قائم کرنے کے مختلف طریقوں پر بات کی۔

انہوں نے کہا:
"امن کی کنجی یہی ہے کہ روسی جنگی مشین کو پیسے اور وسائل سے محروم کیا جائے۔ ہم نے یوکرینی فضاؤں کے مکمل تحفظ پر بھی بات کی۔ جب تک امن قائم نہیں ہوتا، یوکرینی عوام کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اسی لیے یوکرین نے امریکا کو فضائی تحفظ کے ایک خصوصی فارمیٹ پر غور کرنے کی تجویز دی ہے۔”

دوسری جانب، بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ روس کے خلاف "عملی اقدامات” نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو پر مزید پابندیوں اور محصولات کی دھمکیوں کے باوجود وہ یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا خاموش ہے۔