شام کے جنوبی علاقے سویدا میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو مشکل بنا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، یکم تا 5 اگست سویدا اور اس کے گردونواح میں کشیدہ صورتحال برقرار رہی، جہاں تین مختلف مقامات پر مسلح تصادم کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
اسرائیلی افواج کی جانب سے سویدا اور درآ میں متعدد علاقوں پر فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔
دارالحکومت دمشق اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر امدادی رسائی اور تحفظ کی صورتحال میں بہتری کے لیے آواز بلند کی۔
فرقہ وارانہ کشیدگی، اسرائیلی حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث 19 جولائی کو اس خطے میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
ان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ سویدا، درآ اور دیہی دمشق سے تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
تشدد سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا، بلکہ سرکاری ڈھانچے، روزگار کے ذرائع، بجلی اور پانی کی فراہمی سمیت دیگر اہم نظام بھی متاثر ہوئے۔
امدادی سرگرمیاں اور درپیش رکاوٹیں
اوچا کا کہنا ہے کہ امدادی ادارے متاثرہ افراد تک رسائی کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔
12 جولائی سے سویدا اور دمشق کو ملانے والی مرکزی سڑک بند ہے، جو امدادی قافلوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
بصرہ الشام کے راستے مشرقی درآ کی طرف جانے والا راستہ بھی 24 گھنٹے بند رہا، تاہم سوموار کو اسے عارضی طور پر کھول دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے شراکت داروں نے ایندھن، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بڑھا دی ہے۔
بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے اور تجارتی قافلوں کو محفوظ گزرگاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
وسیع امدادی اقدامات
تشدد کے بعد شروع کی گئی امدادی کارروائیوں کے تحت، تقریباً 15 لاکھ متاثرین کو روٹی فراہم کی جا چکی ہے۔
اوچا نے درآ میں ایک بین الاداری مشن روانہ کیا ہے تاکہ بے گھر افراد کی رہائش کے لیے وسط مدتی منصوبوں پر عملدرآمد کی راہ ہموار کی جا سکے۔
سویدا میں بنیادی سہولیات کی بحالی کا عمل بھی جاری ہے، اور ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
دیہی علاقوں میں پانی اور بجلی کے نظام کو مکمل طور پر فعال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم پورے خطے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تاحال بند ہیں۔
