اسلام آباد (اُردو پوائنٹ نیوز۔ 27 ستمبر 2025) وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک خاتون صحافی شمع جونیجو سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شمع جونیجو کو وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھے دیکھا گیا، جس پر سوالات اٹھنے لگے۔ اس حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، اس لیے میں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ تاہم یہ خاتون کون تھیں، کیوں وفد کا حصہ بنیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھی تھیں؟ اس بارے میں جواب دینا دفتر خارجہ کا کام ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ فلسطین کے ساتھ ان کی وابستگی ذاتی اور جذباتی ہے، فلسطینی دوستوں سے تعلقات ساٹھ سال پر محیط ہیں اور آج بھی یہ تعلق قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور صیہونیت کے بارے میں ان کے خیالات نفرت کے سوا کچھ نہیں۔
دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے بھی شمع جونیجو سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے والی خاتون کا نام پاکستان کے وفد کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں تھا۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے دستخط سے منظور شدہ سرٹیفکیٹ میں ان کا ذکر نہیں تھا، اس لیے ان کی موجودگی کی منظوری وزارتِ خارجہ سے نہیں دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ شمع جونیجو برطانوی نژاد پاکستانی تجزیہ کار، وکیل اور صحافی ہیں، جو کئی بار تنازعات کا شکار رہ چکی ہیں۔ ماضی میں ان کے اسرائیل کے حق میں دیے گئے بیانات بھی خاصی تنقید کا باعث بنے تھے۔
