واشنگٹن/لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ کے اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں فیصلہ کن اختتام کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ اب زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتی۔
ٹرمپ کا بیان
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا:
"غزہ کی جنگ ختم ہونی چاہیے۔ بھوک سے بھی بدتر مسائل ہیں، لوگ مر رہے ہیں، زندہ جل رہے ہیں۔ یہ سب بند ہونا چاہیے۔”
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا واضح اور فیصلہ کن اختتام جلد ہو گا۔
تاہم، ٹرمپ نے غزہ کے نصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے صحافیوں کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا:
"اسپتال پر حملے کے بارے میں نہیں جانتا لیکن اس پر خوش نہیں ہوں۔ میں یہ سب دیکھنا نہیں چاہتا، اس بھیانک خواب کو ختم کرنا ہوگا۔ ہم نے ماضی میں سات جنگیں رکوائی ہیں۔”
برطانوی وزیرخارجہ کا ردعمل
ادھر برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ لَیمی نے بھی اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نصر اسپتال پر وحشیانہ حملے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں، طبی عملے اور صحافیوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
عالمی دباؤ میں اضافہ
امریکی صدر کے بیان اور برطانوی وزیرخارجہ کے ردعمل نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ عالمی برادری غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی جارحیت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔






