وافی انرجی پاکستان کی جانب سے ملک میں 100 ملین امریکی ڈالر تک سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

0
pakalerts.pk
pakalerts.pk

کمپنی آئندہ برسوں میں اپنی ریٹیل اور سٹوریج صلاحیت میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے، وفاقی وزیر خزانہ کا معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کا عزم

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ بات انہوں نے وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس نے آئندہ دو سے تین برسوں میں پاکستان میں 100 ملین امریکی ڈالر تک ممکنہ سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔یہ ملاقات وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوئی، جس میں وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کے وفد کی قیادت جاوید اختر، چیف فنانس آفیسر، اسیاڈ گروپ (بورڈ ممبر)، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نے کی۔ وفد میں زبیر شیخ، چیف ایگزیکٹو آفیسر، اور ضرار محمود، چیف فنانس آفیسر، وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران کمپنی کی موجودہ سرگرمیوں، آئندہ سرمایہ کاری کے امکانات اور آئل مارکیٹنگ و توانائی کے شعبے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پائیدار معاشی استحکام حکومت کی اقتصادی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرِ مبادلہ کی دستیابی میں بہتری مجموعی معاشی نظم و ضبط اور اصلاحات کا براہِ راست نتیجہ ہے، اور بیرونی مالیاتی ذخائر کو مضبوط بنانے سے جائز کاروباری لین دین، بشمول منافع کی بیرونِ ملک منتقلی اور سرحد پار ادائیگیوں میں سہولت میسر آئے گی۔وفاقی وزیر نے اس امر کا مشاہدہ کیا کہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جو ایک صحت مند سرمایہ کاری ماحول کے بنیادی عناصر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی شمولیت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ملاقات کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز اور اسٹرکچرڈ فنانس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی سطح پر کامیاب تجربات بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ان ماڈلز کی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں، اور اسٹرکچرڈ فنانس کے فروغ اور بینکاری شعبے کے ساتھ مضبوط اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔وفد نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ بہتر معاشی استحکام کے باعث وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ کو اپنے آپریشنز میں بہتری کا فائدہ حاصل ہوا ہے، اور کمپنی آئندہ برسوں میں اپنی ریٹیل اور سٹوریج صلاحیت میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔وفد نے پاکستان کی معیشت کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔وفد نے کمپنی کے موجودہ آپریشنز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ ملک بھر میں ایک وسیع ریٹیل نیٹ ورک چلا رہی ہے، جسے جدید کاری اور کارکردگی میں بہتری کے لیے جاری سرمایہ کاری کی معاونت حاصل ہے۔بہتر معاشی حالات اور آپریشنل ماحول میں پیش گوئی کے قابل پن نے حالیہ کاروباری انضمام کے بعد سرمایہ کاری کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے اور وسعت دینے میں مدد فراہم کی ہے۔وفد نے مزید بتایا کہ کمپنی آئندہ دو سے تین برسوں میں ریٹیل نیٹ ورک اور اسٹوریج صلاحیت میں توسیع کے لیے 100 ملین امریکی ڈالر تک سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد سپلائی چین کو مضبوط بنانا، خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور توانائی کے شعبے کی طویل المدتی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔وفد نے یہ بھی بتایا کہ وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ نے اپنی جدید کاری کی حکمتِ عملی کے تحت آپریشنز میں ڈیجیٹل نظام متعارف کروائے ہیں، جو شفافیت، کارکردگی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پاسداری کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔وفد نے آئل مارکیٹنگ سیکٹر کے آپریشنل ماحول سے متعلق امور بھی اٹھائے اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری، مالیاتی اور آپریشنل معاملات میں تسلسل اور وضاحت سرمایہ کاری کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ وفد نے بعض مالی اور ٹیکس سے متعلق نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح اور مستقل پالیسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کاروباری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت اور صنعت کے مابین مسلسل مشاورت کو اصلاحات اور سرمایہ کاری کے اہداف کے حصول کے لیے مفید قرار دیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے نجکاری اور آوٹ سورسنگ کو حکومت کی بنیادی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبہ تجارتی اثاثوں کے موثر انتظام و انصرام کے لیے بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ نجکاری اقدامات میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے اور آئندہ تمام عمل شفاف، مسابقتی اور واضح طریقہ کار کے تحت وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق انجام دیا جائے گا۔ڈیجیٹلائزیشن کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض ادارے اس میدان میں دوسروں سے آگے ہیں، تاہم شعبے میں غیریکساں پیش رفت کے باعث شفافیت اور کارکردگی کے لیے سخت پالیسی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ امور پر متعلقہ وزارتوں، ڈویڑنز اور ریگولیٹرز کے ساتھ مشاورت سے جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے سعودی عرب سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی تزویراتی روابط کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے روابط اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے اصلاحات، نجکاری، ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کاری کے فروغ کو حکومت کے جامع اقتصادی ایجنڈے کے باہم مربوط ستون قرار دیتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران اٹھائے گئے تمام نکات کو مناسب ادارہ جاتی فورمز پر زیرِ غور لایا جائے گا تاکہ طویل المدتی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

Exit mobile version