متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے، جس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا رویہ اور کوٹہ سسٹم میں مزید 20 سال کی ممکنہ توسیع ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے حکومت سے معاہدہ کیا تھا، پیپلز پارٹی سے نہیں، لہٰذا حکومت کو ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے شکایت کی کہ مسلم لیگ ن نے گزشتہ آٹھ ماہ میں ایم کیو ایم کو وہ عزت نہیں دی جو ان کا حق تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت بلدیاتی اختیارات کا مسئلہ حل نہیں کرتی اور زبردستی کوٹہ سسٹم میں مزید 20 سال کی توسیع کرتی ہے، تو ایم کیو ایم اسمبلی کی رکنیت اور حکومت چھوڑ دے گی۔ مصطفیٰ کمال نے کراچی میں ایم کیو ایم کی جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکنوں نے شہر میں امن قائم کرنے کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اور یہ دعویٰ کیا کہ اگر ایم کیو ایم دو ہفتے کے لیے اپنی سرگرمیاں معطل کر دے تو کراچی میں امن کا حال دیکھنے کو ملے گا۔
ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی نے بھی حکومتی رویے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نے شہری سندھ کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جو حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ کوٹہ سسٹم کو مزید توسیع دینا ایم کیو ایم کو ناقابل قبول ہے، کیونکہ یہ شہری سندھ کے لوگوں کا تعلیمی اور معاشی قتل عام ہے۔





