بائیوفوبیا، یعنی جب آپ فطرت سے خوفزدہ ہونے لگیں !

0
9

 جنگل میں نہانے سے دماغی تناؤ کم ہوتا ہے اور وہ لوگ جن کی کھڑکیوں کے باہر درخت ہوتے ہیں وہ ان کی نسبت صحت مند زندگی گزارتے ہیں جن کی کھڑکیوں کے باہر درخت نہیں دکھائی دیتے۔ ایسا لگتا ہے کہ فطرت سے خطرہ محسوس کرنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو دور رس نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

فطرت کو قریب سے محسوس کرنے کا تجربہ عام طور پر انسانی روح کے لیے بام یا مرحم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی فطرت سے محبت کے لیے ایک مخصوص اصطلاح ہے: بائیوفیلیا۔ یہ خیال ارتقائی نفسیات سے نکلتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ انسان قدرتی ماحول کی طرف راغب ہوتے ہیں جو انہیں ارتقاء کے دوران زندہ رہنے کے اچھے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اس کا متضاد بائیوفوبیا ہے، فطرت کا خوف۔ مثال کے طور پر بڑے شکاریوں کا خوف یا مکڑیوں یا سانپوں کا خوف— ان جانوروں کا جو زہریلے ہو سکتے ہیں۔

لیکن محققین اب ایک ایسے فطری اضطراب کی شناخت کر رہے ہیں جو محض حقیقی اور زندگی بچانے والے خوف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ نتیجہ سویڈن کی لُنڈ یونیورسٹی کے ایک جائزے پر مبنی ہے، جس میں ایک تحقیقی ٹیم نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 196 مطالعات کا تجزیہ کیا—یہ تمام تحقیق انسان اور فطرت کے باہمی تعلق سے متعلق تھی۔

انسانوں نے فطرت کے ساتھ اپنا روزمرہ کا رابطہ کھو دیا ہے

سویڈش محققین کی ٹیم سے منسلک ماحولیاتی امور کے ماہر ژوہان ینزن کے مطابق انسانوں کا فطرت سے کم سے کم رابطہ بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ موسمیاتی امور کے ماہر ینزن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’آج دنیا کی آبادی کی اکثریت شہروں میں رہتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والی نسلوں کو بائیوفوبیا کے زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا۔‘‘

برلن میں مقیم ماہر نفسیات ڈرک اسٹیمپر کا کہنا ہے کہ سائنس 1970 کی دہائی کے آخر سے فطرت سے لوگوں کی بڑھتی ہوئی بیگانگی کا مشاہدہ کر رہی ہے، جن کی تحقیق اضطراب سے نمٹنے اور شخصیت کی نشوونما جیسے موضوعات پر مرکوز ہے۔ یہ خاص طور پر صنعتی ممالک کے لیے سچ ہے۔

نفسیانی مسائل

برلن میں مقیم ایک ماہر نفسیات ڈرک اسٹیمپر، جن کی تحقیق اضطراب سے نمٹنے اور شخصیت کی نشوونما جیسے موضوعات پر مرکوز ہے کا کہنا ہے کہ سائنس 1970 کی دہائی کے آخر سے فطرت سے لوگوں کی بڑھتی ہوئی بیگانگی کا مشاہدہ کر رہی ہے، یہ خاص طور پر صنعتی ممالک میں ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں،’’بچے انتہائی بند، فطرت سے محروم ماحول میں پل رہے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت گھر کے اندر اور ارد گرد کی ڈیجیٹل دنیا میں وقت گزار رہے ہیں۔ ان میں جسمانی اور حسی تجربات کی شدید کمی ہے جیسے کہ اونچائی کی سطح پر چڑھنا، قدرتی آلودگی کا تجربہ کرنا، یا جانوروں کا مشاہدہ کرنا۔‘‘ ماہر نفسیات ڈرک اسٹیمپر کا کہنا ہے کہ یہ بالکل وہی تجربات ہیں جو فطرت سے واقفیت پیدا کرتے ہیں۔ان کے بغیر فطرت اجنبی محسوس ہوتی ہے۔

مٹی کو گندگی اور کینچوے کو کراہت آمیز سمجھنا

بچوں میں فطرت سے دوری اس وقت بڑھتی ہے جب مٹی کو گندگی اور کیڑے مکوڑوں کو ’’ناگوار‘‘ سمجھا جائے—اور والدین کا فطرت کی طرف خود بھی یہی رویہ ہو اور وہ اسے اپنے بچوں تک آگے بڑھائیں۔

محققین کے مطابق والدین کے منفی پیغامات، جیسے ”اسے مت چھونا‘‘ یا ’’اس سے بچو‘‘ ، بچوں میں فطرت کو خطرہ سمجھنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

فطرت اور ماحولیات کی تعلیم دینے کی ماہر سوزن زیگل کا مشاہدہ ہے کہ جنگل میں بہت سے بچے درختوں کی شاخوں کو ہاتھ لگانے سے کتراتے ہیں، ٹشوز استعمال کرتے ہیں یا بالکل نہیں اٹھاتے نہیں۔ کئی بچے شاہ بلوط یا ہیزل نٹ کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتے، جبکہ مٹی اور بے ضرر کیڑوں سے تو اور بھی ڈرتے اور دور بھاگتے ہیں۔

اکثر والدین بچوں کو جنگل میں نامناسب لباس پہنا کر بھیجتے ہیں —جیسے ایسے جوتے جو گندے نہیں ہونے چاہئیں—جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ مٹی صرف گندگی ہے۔بالکل وہی تجربات ہیں جو فطرت سے واقفیت پیدا کرتے ہیں۔ ان کے بغیر فطرت اجنبی محسوس ہوتی ہے۔

ثقافت کا فطرت کے ساتھ ہمارے تعلق پر اثر

فطرت کے ساتھ ہمارا تعلق ثقافت سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ ماہرِ نفسیات ڈرک اسٹیمپر کے مطابق، وسطی یورپ میں جنگل کو طویل عرصے تک خطرہ اور جنگلی جانوروں اور جادوئی آسیب کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ رومانوی دور میں یہ تصور بدلا اور جنگل آرزو کی علامت بن گیا۔

آج ایک نئی قسم کا خوف لوٹ رہا ہے— ڈاکوؤں یا درندوں سے نہیں ، بلکہ فطرت سے بڑھتی بیگانگی، میڈیا بیانیوں اور ڈیجیٹل مصروفیات کی وجہ سے۔

مطالعات کے مطابق 1950 سے چند مقبول ثقافت میں فطرت کے حوالے کم ہوتے گئے ہیں، جبکہ میڈیا اکثر فطرت کو آفات اور خطرات سے جوڑ کر پیش کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز فطرت کی مسخ شدہ، فلٹر شدہ ”ہائپر ریئلٹی‘‘ تخلیق کرتے ہیں، جو حقیقت اور دکھاوے کی حدیں مٹاتی ہیں۔

فطرت کے ساتھ جڑنے کے موثر طریقے

فطرت سے دوبارہ جڑنے کا مؤثر طریقہ علم ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جب لوگ پودوں اور جانوروں کو پہچانتے ہیں اور فطرت کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھتے ہیں تو وہ اس کی زیادہ قدر کرتے ہیں اور اس علم کو حاصل کرنے سے انسانوں کے منفی جذبات کم ہو جاتے ہیں۔

اگر خوف حقیقی خطرے پر مبنی ہو تو آگاہی تنازعات سے بچاتی ہے، اور اگر خطرہ صرف خیالی ہو تو فطرت کا آہستہ آہستہ سامنا کرنا بہتر علاج ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ لوگوں کو تدریجی تجربات کے ذریعے فطرت کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے یہ عمل سب سے آسان ہے: آزادانہ کھیل—دوڑنا، چھپنا، گرنا—انہیں شاخوں، مٹی اور فطرت کے دوسرے عناصر سے خود بخود مانوس کر دیتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر