راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سال 2025 کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن اور تاریخی سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران ریاست پاکستان اور عوام نے واضح مؤقف کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 میں دہشت گردی کے خلاف 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 1,237 سیکیورٹی اہلکار اور 1,235 شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 3,811 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ صوبے میں 14,658 اور بلوچستان میں 58,700 سے زائد آپریشنز کیے گئے۔ فتنہ خوارج کا نمبر دو کمانڈر امجد مزاحم بھی سرحدی علاقے میں ہلاک کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان 2025 میں دہشت گردوں کا بیس آف آپریشن بنا رہا، تاہم پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ خوارج کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خلاف واحد متفقہ قومی دستاویز ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں دہشت گردوں کو سیاسی اور کرمنل سہولت کاری میسر ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد 7.3 ملین ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ وہاں چھوڑا گیا جو بعد ازاں دہشت گردوں کے ہاتھ لگا۔
پاک افغان سرحد پر حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی پوسٹ پر حملے کے بعد درجنوں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا اور بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی میں واضح کمی آئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 میں ہونے والے 10 بڑے دہشت گرد حملوں میں تمام خودکش حملہ آور افغان شہری تھے، جن میں 78 دہشت گرد ہلاک اور 60 شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے اور شہداء کی قربانیاں پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔
