پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری آپریشنز فوری طور پر بند کیے جائیں کیونکہ ان میں ایک طرف سیکیورٹی اہلکار جبکہ دوسری جانب عام شہری مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اپنوں کو مارنے سے دہشتگردی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔”
اڈیالہ جیل سے تفصیلی پیغام
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ:
- ملک میں آج وہی حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جو 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے تھے۔
- اُس وقت بھی ڈکٹیٹر یحییٰ خان نے اقتدار بچانے کے لیے فیصلے کیے جن کے نتیجے میں ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔
- سب سے بڑی غلطی عوامی لیگ جیسی مقبول جماعت کو دبانا اور اس کے رہنماؤں کو جیل میں ڈالنا تھی۔
عمران خان نے کہا کہ آج بھی اسی طرز پر تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور پارٹی امیدواروں کو الیکشن سے باہر کر دیا گیا۔
الیکشن اور عدالتی فیصلوں پر تنقید
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ:
- قومی اسمبلی کی نشستیں جعلی مقدمات اور سزاؤں کے ذریعے چھینی جا رہی ہیں۔
- ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ اسی لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ نشستیں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت چھین لی جائیں گی۔
- تحریک انصاف کے تمام اراکین کو پارلیمانی مراعات اور قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
خیبر پختونخوا آپریشن پر مؤقف
عمران خان نے خیبر پختونخوا میں آپریشنز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا:
- یہ اقدامات صرف بیرونی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
- ان آپریشنز میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار دونوں مارے جا رہے ہیں۔
- دہشتگردی کا مستقل حل صرف مذاکرات ہیں، طاقت کے استعمال سے مسئلہ مزید بگڑتا ہے۔
افغان مہاجرین کے بارے میں
عمران خان نے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
- افغان بھائی تین نسلوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں، ان کے ساتھ ناروا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
- نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت مدینہ میں جو عزت و احترام پایا، وہی جذبہ ہمیں بھی اپنانا ہوگا۔
عمران خان نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات نہ رُکے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
