چینی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔
ان کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، افراطِ زر میں کمی اور پالیسی ریٹ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ موجودہ ذخائر ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ تک آگئی ہے اور عالمی اداروں نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے، جو عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں سال 4 فیصد سے زائد شرحِ نمو کا ہدف رکھا گیا تھا۔
تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ سیلاب کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر کچھ اثر پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کو امید ہے کہ موجودہ مالی سال میں 3.5 فیصد ترقی کی شرح حاصل کرلی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اور چین کے ساتھ نئی سرمایہ کاری کے مواقع زیرِ غور ہیں۔
