یروشلم/غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک، 17 ستمبر 2025): اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں اور جارحیت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو علاقے سے نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حماس انہیں جانے سے روک رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ سات اکتوبر 2023ء کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کو ایک "آزادانہ ہتھیار ساز صنعت” قائم کرنا ہوگی تاکہ کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی پابندی کے باوجود اس کی فوجی طاقت کمزور نہ ہو۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ وہ اسی ماہ امریکا جائیں گے جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے اور یہ ملاقات جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد متوقع ہے۔
قبل ازیں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر میں "دشمن کے خاتمے” کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی دوران شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عام شہریوں کو جنگجوؤں سے الگ کرنے کے لیے مزید گزرگاہیں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کی "فوجی صلاحیتوں کا خاتمہ” نہیں ہو جاتا۔ فوج نے گزشتہ روز تصدیق کی تھی کہ غزہ کے سب سے بڑے اور تباہ حال شہر میں زمینی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے بتایا کہ شہر میں تقریباً تین ہزار حماس کے جنگجو موجود ہو سکتے ہیں اور زمینی دستے وسطی حصوں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کو مزید فلسطینی عوام کے زاویے سے بھی دوبارہ لکھوں تاکہ انسانی المیے کی شدت زیادہ نمایاں ہو؟
