گزشتہ ساڑھے3 سال میں پاکستان "عالمی دہشتگردی انڈکس” میں 9ویں نمبر سے گِر کر دوسرے نمبر پر آ چکا

0
pakalerts
pakalerts

اسلام آباد (06 جنوری 2026)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس تحریک انصاف پر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسی کے دور حکومت میں پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس میں چار درجے بہتری کے ساتھ نویں نمبر پر آ گیا تھا، جبکہ گزشتہ ساڑھے تین سال میں پاکستان نویں نمبر سے گر کر دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر اس صوبے کے وزیراعلیٰ کو نشانہ بنایا ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا تعلق ان اضلاع سے ہے جہاں ہر گھر سے جنازے اٹھے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کے یہ سویلین شہداء اس قوم کے شہید نہیں؟ کولیٹرل ڈیمیج پر پردہ داری کیوں کی جا رہی ہے؟

تحریک انصاف نے سوال اٹھایا کہ کیا اس ملک میں جان اور عزت صرف ایک ادارے کی ہے؟ کیا قومی شہید کا لقب صرف ایک ادارے کے لیے مخصوص ہے؟ پارٹی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے صوبائی وزراء پر طنز و تمسخر شرمناک ہے، جب کہ ملک کو اس وقت دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ کی بات ایک ناکام بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب جانتے ہیں، لوگوں کو بار بار بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک ماہ قبل کے پی اسمبلی میں ہونے والے جرگے میں سب کچھ واضح ہو چکا ہے کہ وہاں دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے۔

ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے کیونکہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے اور سیاسی و دہشت گردانہ گٹھ جوڑ پروان چڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 14 ہزار 658 آپریشنز خیبرپختونخوا اور 58 ہزار 778 بلوچستان میں کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات میں 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 1 ہزار 235 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور اس میں ریاست اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

Exit mobile version