واشنگٹن (19 نومبر 2025): سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب امریکا میں اپنی سرمایہ کاری 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر تقریباً ایک کھرب (1 ٹریلین) ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جلد دونوں ممالک مشترکہ طور پر اس بڑے سرمایہ کاری اضافے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’آج ہماری تاریخ کا اہم دن ہے۔ ہم مستقبل کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں اور امریکا کے ساتھ سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر اہم شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جس سے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا: ’’کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ 600 بلین ڈالر ایک ٹریلین بن جائیں گے؟‘‘ جس پر محمد بن سلمان نے جواب دیا، ’’جی ہاں، بالکل، کیونکہ ہم جو معاہدے کر رہے ہیں وہ اسی سمت میں معاونت کریں گے۔‘‘
ٹرمپ نے بڑی سرمایہ کاری پر ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ میرے دوست ہیں، شاید یہ سرمایہ کاری واقعی ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے، لیکن اس کے لیے مجھے تھوڑا اور زور لگانا پڑے گا۔‘‘
امریکا میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے بھی اس ملاقات اور بڑے معاہدوں کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’یہ سعودی۔امریکا تعلقات کے لیے ایک اہم دن ہے۔‘‘






