کراچی (16 ستمبر 2025): سندھ کے اکثر بڑے سرکاری اسپتالوں میں کئی برسوں سے سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینیں خراب اور بند پڑی ہیں، اور اب یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ مشینیں جان بوجھ کر خراب کی جاتی ہیں۔
گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں اس معاملے پر تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ پی اے سی نے سیکریٹری صحت کو ہدایت دی کہ اسپتالوں میں خراب اور بند پڑی مشینوں کو فوراً فنکشنل کیا جائے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔
پی اے سی کے چیئرمین نثار کھوڑو نے سوال اٹھایا کہ آخر سندھ کے ڈویژنل اسپتالوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی مشینیں کیوں بند ہیں؟ اس پر سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے انکشاف کیا کہ سندھ کے کئی بڑے اسپتالوں میں ٹیکنیشنز جان بوجھ کر سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینیں خراب کرتے ہیں تاکہ مریضوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ مہنگی نجی لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ مختلف اضلاع میں اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس نے ٹینڈر کے بغیر ہی 3 ارب روپے سے زائد کی ادویات خریدیں۔ کمیٹی نے ان ادویات کی تفصیلات اور متعلقہ اسپتالوں کی فہرست طلب کر لی۔ سیکریٹری صحت نے وضاحت کی کہ ایمرجنسی حالات میں پیپرا رول کے تحت ادویات خریدی گئی ہیں، جس میں 85 فی صد خریداری مرکزی سطح پر اور 15 فی صد مقامی سطح پر کی جاتی ہے۔
پی اے سی نے سندھ بھر میں جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا۔ اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی میں صفائی کے نظام پر سالانہ 135 ملین روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود صورتحال تسلی بخش نہیں۔ کمیٹی نے صفائی کے نظام پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم دے دیا۔
یہ اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں اراکین کمیٹی خرم کریم سومرو، طاحہ احمد، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، مختلف اسپتالوں کے ایم ایس اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کی سال 2024 اور 2025 کی آڈٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
