کیا کبھی آپ کو ایسا احساس ہوا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے؟ اس عجیب رجحان کو Precognition یا "پیشگی ادراک” کہا جاتا ہے۔ برسوں سے یہ موضوع سائنسدانوں اور ماہرین کو حیران کرتا آیا ہے۔
ڈین ریڈن کا تجربہ
1990 کی دہائی کے وسط میں پیرسائیکالوجسٹ ڈین ریڈن (Ph.D.) نے یونیورسٹی آف نیواڈا میں ایک منفرد تحقیق کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر شعور وقت کی قید سے آزاد ہے تو دماغ کی سرگرمی کسی واقعے کے پیش آنے سے پہلے ہی اس پر ردعمل دکھا سکتی ہے۔
طریقہ کار:
- شرکاء کو EEG مشین سے جوڑا گیا تاکہ دماغی سرگرمی ریکارڈ ہو سکے۔
- انہیں ایک پرامپٹ دیا جاتا اور چند سیکنڈ بعد مختلف تصاویر دکھائی جاتیں:
- مثبت (جیسے سورج طلوع ہونا)
- منفی (جیسے کار حادثہ)
حیران کن نتائج:
- مثبت تصویر آنے کی توقع پر دماغ نے کم ردعمل دکھایا۔
- لیکن منفی تصویر سے پہلے دماغی سرگرمی میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔
یہ نتائج شماریاتی طور پر اتنے مضبوط تھے کہ اس کے بعد گزشتہ تین دہائیوں میں تقریباً 30 بار سے زیادہ یہ تجربہ کامیابی سے دہرایا گیا۔
اثرات اور دلچسپ پہلو
- 1995 میں CIA نے اپنے "Pre-sentiment research” کو ڈی کلاسیفائی کیا۔
- ماہر شماریات نے بھی اس تحقیق کی سائنسی بنیادوں کی تصدیق کی۔
- سوال اب بھی باقی ہے:
- یہ "gut feelings” کہاں سے آتے ہیں؟
- کیا وقت واقعی خطی (linear) ہے یا ہم اسے غلط سمجھ رہے ہیں؟
خلاصہ
ڈین ریڈن کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ مستقبل کا ادراک صرف ایک وہم نہیں، بلکہ دماغ میں اس کے شماریاتی شواہد موجود ہیں۔ مگر اصل راز اب بھی باقی ہے: یہ کیسے اور کیوں ہوتا ہے؟
