بھارت کے 20 طیارے لاک کئے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کیا اور صرف 6 گرائے

0
92
Pakalerts.pk

پاکستان کا پانی روک لیا جائے تو ہم کیسے خاموش بیٹھ سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے ہم اس نہج پر آچکے ہیں کہ نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے، جنگ چھڑی تو اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی نیوزکانفرنس

اسلام آباد چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کے 20 لڑاکا طیاروں کو نشانے پر لے لیا تھا، تاہم تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 6 طیارے گرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اگر پاکستان کا پانی روکنے کی سازش کرے گا تو ہم چپ نہیں بیٹھ سکتے، کیونکہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

بلاول بھٹو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے میزائل حملے کے جواب میں پاکستان نے نہ صرف مؤثر ردعمل دیا بلکہ دنیا کو ممکنہ تباہی سے بھی بچایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے سیز فائر کے لیے اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس کشیدگی نے دنیا بھر کے امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کی صورتحال اتنی نازک ہو چکی ہے کہ کسی بھی لمحے ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے، اور اگر یہ جنگ ایٹمی نوعیت اختیار کر گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور یہ ناقابل قبول ہے کہ 200 ملین پاکستانیوں کے پانی پر بھارت ناجائز قبضہ کرے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایک جیسے ظلم و ستم کا چہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے انسانی حقوق کی کھلی پامالی کی ہے۔ ان کی پالیسیاں نہ صرف اپنے علاقوں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی، ریاستی جبر اور مذہبی انتہا پسندی اب ان حکومتوں کی پہچان بن چکی ہے۔

اس سے قبل انہوں نے چین کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت شکست کھا چکا ہے، لیکن وہاں کی حکومت اپنی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت نے کچھ نہیں کھویا تو سچ چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے چھ طیارے گرائے گئے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں بھارتی حکومت کو ایک مہینہ لگ گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، لیکن بھارت نے مذاکرات سے مسلسل انکار کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ امن کا خواہاں نہیں۔ بلاول نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر، پانی کے تنازعے اور دہشتگردی جیسے حساس معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بامقصد مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ امن صرف اس وقت ممکن ہے جب بھارت بات چیت پر رضامند ہو۔ اگر عالمی برادری ویسے ہی کردار ادا کرے جیسے جنگ بندی کے وقت کیا تھا، تو جنوبی ایشیا کو جنگ کی نہیں بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔