لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک حدوں کو بھی پار کرگئی‘ ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ہزار سے تجاوزکر گیا

0
83

لاہور میں فضائی آلودگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) ایک ہزار سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق بھارت میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھویں اور تیز ہواؤں نے لاہور میں آلودگی کو بے حد بڑھا دیا ہے۔ ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاہور انسانی رہائش کے لیے ممکنہ طور پر ناقابل رہائش ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق لاہور کی آلودگی میں بنیادی کردار بے ہنگم ٹریفک، گرین ایریاز کی کمی، اور غیر منصوبہ بند اربنائزیشن نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کو رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنے اور گرین ایریاز کو کنکریٹ میں بدلنے سے لاہور میں آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت اربنائزیشن کو روکنے کے لیے نئے رہائشی منصوبوں پر پابندی لگائے، زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیاں بنانے پر مستقل پابندی کے لیے قانون سازی کرے، اور شہر میں شجرکاری کو فروغ دے۔ مزید یہ کہ ٹریفک کو کم کرنے کے لیے ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

حکومت نے بھی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں اکتوبر کے مہینے میں 1,344 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور 2,357 مقدمات درج کیے گئے۔ اسموگ سے پھیپھڑوں اور گلے کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور قدرتی وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

حکومتی اور ماہرین کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات لاہور کو ممکنہ طور پر بہتر ہوا فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور اربن پلاننگ میں ماحولیاتی پہلوؤں کو شامل کیا جائے۔