26 ویں آئینی ترمیم چیلنج، کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر

0
88

26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کر دی گئیں، جس میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں محمد انس نامی شہری نے درخواست دائر کی، جس میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ پارلیمنٹ کو عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے، اور چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار حکومت کو دینے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی۔

سندھ ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ الٰہی بخش نے ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز کی تقرری کے عمل میں ایگزیکٹو کی مداخلت عدلیہ کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے اور ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ اگر سیاسی شخصیات مرتب کریں گی، تو عدلیہ کی آزادی کیسے برقرار رہے گی؟

دونوں درخواستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی ترمیم سے عدلیہ پر ایگزیکٹو کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، جو اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی ہے، لہذا ترمیم کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کیا جائے۔