ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے آئینی رول سے واضح طور پر تجاوز کیا، پارلیمانی پارٹی انکے الزامات کو مسترد کرتی ہے، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اعلامیہ
تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان پاکستان کی سکیورٹی کی ضمانت ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے آئینی رول سے واضح طور پر تجاوز کیا، پارلیمانی پارٹی انکے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس آج قومی اسمبلی میں منعقد ہوا، جس میں ارکانِ قومی اسمبلی اور ارکانِ سینیٹ نے شرکت کی۔اجلاس میں نامزد قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان، سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور چیف ویہپ ملک عامر ڈوگر بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتِ حال، جمہوری عمل میں رکاوٹوں، آئینی انحرافات اور ادارہ جاتی مداخلت کے بڑھتے ہوئے خدشات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔پارلیمانی پارٹی نے واضح کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفننگ کے بعد پوری قوم شدید اضطراب اور تشویش کا شکار ہے۔ جمہوریت دشمن عناصر منظم طریقے سے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں آئینِ پاکستان کو عملاً معطل کردیا گیا ہے، عدلیہ کو بے اختیار اور بے اثر کیا جا رہا ہے جبکہ میڈیا پر سخت ترین قدغنیں لگا کر عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز مسلسل دبائی جا رہی ہے اور چادر و چار دیواری کا تقدس ملک بھر میں پامال کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے افسوس ظاہر کیا کہ عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو ملک کے لیے خطرہ قرار دینا جمہوری روایات کے منافی ہے، کیونکہ سیاست انتشار نہیں بلکہ برداشت، مکالمہ اور باہمی احترام کا نام ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں نامزد قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ کیلئے علامہ راجہ ناصر عباس کا نوٹیفیکیشن بلا تاخیر جاری کیا جائے۔مزید کہا گیا کہ اگر سیاسی انجینئرنگ اور انتقامی کارروائیاں نہ رکیں تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ سیاست میں کسی کو نکالنے کی نہیں بلکہ سب کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ کو اشتعال انگیزی پھیلانے والی قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننے دینا چاہیے۔ ہمیں حالات اور سیاسی فرجہ حرارت بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی روش اپنانا ہوگی، کیونکہ ملک اور جمہوریت کی خاطر آگے بڑھنا ضروری ہے۔اتنی بڑی عوامی قوت کو نظر انداز کرنا ملک کے لیے انتہائی بدقسمتی کا سبب ہوگا۔ پارلیمانی پارٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے متعلق کہا کہ عمران خان پاکستان کی سکیورٹی کی ضمانت ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے آئینی رول سے واضح طور پر تجاوز کیا اور پارلیمانی پارٹی انکے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان، بشریٰ عمران صاحبہ، ایم این اے صاحبزادہ حامد رضا، ایک این اے لطیف چترالی اور ایم پی اے جنید ساہی سمیت تمام سیاسی قیدیوں سے جیل میں ملاقاتوں کا فوری اور آزادانہ انتظام کیا جائے۔جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں جنہیں فی الفور روکا جانا چاہیے۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ ایک سینیئر حکومتی وفاقی وزیر کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جیل سہولیات کے حوالے سے قائم کمیٹی کی پیشکش قبول کرلی گئی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمانی لیڈرز کمیٹی کے لیے پی ٹی آئی کے وکلاء پارلیمنٹیرینز کے نام دیں گے، جو اسی سینیئر وفاقی وزیر کیساتھ اڈیالہ جیل جا کر چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جیل سہولیات کا جائزہ لیں گے۔پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں آئینِ پاکستان کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے گی، قانون کی حکمرانی بحال کی جائے گی اور جمہوری اداروں کو ان کے آئینی حدود و اختیارات کے اندر کام کرنے دیا جائے گا۔ آخر میں پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شاہد خٹک کو پارلیمانی لیڈر نامزد ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔”





