اسلام آباد — پاکستانی حکام نے ان افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے جن کے پاس "پروف آف رجسٹریشن” (PoR) کارڈز کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان نے افغان شہریوں کے قیام کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پالیسی سے تقریباً 14 لاکھ افغان مہاجرین متاثر ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی افغانستان میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، تقریباً 8 لاکھ افغان شہری جن کے پاس "افغان سٹیزن کارڈز” ہیں، بھی ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد "غیر قانونی” طور پر پاکستان میں مقیم ہیں، اور انہیں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا جا رہا ہے۔
31 جولائی کو جاری کردہ ایک سرکاری نوٹس کے مطابق، وہ افغان باشندے جن کے پاس درست پاسپورٹ اور پاکستانی ویزا نہیں ہے، انہیں امیگریشن قوانین کے تحت ملک چھوڑنا ہوگا۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ جن افغان شہریوں کے PoR کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ پاکستان میں مزید قیام کے اہل نہیں۔
دو اعلیٰ حکومتی و سیکورٹی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کو بتایا کہ پولیس کو ملک بھر میں گھر گھر چھاپے مارنے اور غیر دستاویزی افغان مہاجرین کو گرفتار کرکے بارڈر پر منتقل کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے کمشنر شکیل خان نے کہا کہ "غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن وفاقی حکومت کے حکم پر عملدرآمد کا اہم قدم ہے۔
35 سالہ افغان شہری رحمت اللہ، جو دہائیوں سے پشاور میں آباد ہے، نے کہا کہ وہ اور اس کے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے، مگر اب انہیں واپس جانا پڑ رہا ہے۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ بچے تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔
پاکستان گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جو جنگ، سیاسی بحران اور معاشی بدحالی کے باعث اپنے ملک سے ہجرت کر چکے تھے۔ تاہم، 2023 میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف شروع ہونے والے ملک گیر کریک ڈاؤن کے بعد ملک بدری کی یہ نئی لہر شروع ہوئی ہے۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے پاکستان کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"جبری ملک بدری بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک زیادہ انسانی ہمدردی پر مبنی اور متوازن حکمت عملی اپنائے۔”





