ہر شہید کے لواحقین کو 15 لاکھ، زخمیوں کو 2 لاکھ امداد، ریاستی خرچ پر علاج فراہم کیا جائے گا
پشاور خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں حالیہ افسوسناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج نے قبائلی عمائدین سے جرگہ کیا، جو کامیاب رہا۔ ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج کے بریگیڈیئر اور قبائلی مشران کے درمیان مفاہمتی جرگہ منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ فیصلہ کیا گیا کہ واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے فوری مالی امداد دی جائے گی جبکہ زخمیوں کا مکمل علاج ریاستی خرچ پر کرایا جائے گا۔
جرگے میں طے پایا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ جرگے میں تمام فریقین نے مفاہمت اور امن کی بحالی پر اتفاق کیا۔ قبائلی مشران نے جرگے میں پانچ نکاتی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی، شہدا کے گھروں کو نقصان سے بچانے اور مکانات کی واگزاری جیسے نکات شامل تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وادی تیراہ کے باغ بازار میں مارٹر حملے کے نتیجے میں ایک معصوم بچی شہید ہوئی تھی۔ اس کے بعد آج مقامی لوگ احتجاج کے لیے سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے تو اُن پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
اس واقعے پر پی ٹی آئی رہنما اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پرامن امن مارچ میں نہتے قبائلی مشران، نوجوانوں اور بچوں پر گولی چلانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوران جنگ بھی معصوم بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت کوئی مذہب، ریاست یا قانون نہیں دیتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریاست کے ایسے اقدامات سے دہشتگردی کم ہوگی یا بڑھے گی؟ اور کیا حکمرانوں کو پشتون بیلٹ اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا اندازہ ہے؟
سورس اردو پوائنٹ





