تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اے پی سی کو روکنے کے لیے حکومتی دباؤ، اپوزیشن کا ردعمل شدید

0
140
pakalerts.pk
pakalerts.pk

حکومت فاشسٹ ہتھکنڈوں سے باز رہے، اے پی سی ہمارا آئینی حق ہے، اسد قیصر – بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے دھاندلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے

تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا آئینی و قانونی حق سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابل مذمت ہے۔

اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے ہوٹل پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ 31 جولائی اور یکم اگست کو ہونے والی اے پی سی کو منسوخ کرایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی کا انعقاد اپوزیشن کا آئینی حق ہے، لیکن موجودہ فاشسٹ حکومت دھونس، دھمکی اور دباؤ سے اس حق کو دبانا چاہتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس آمرانہ طرز عمل کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اپنی جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری آواز کو دبانے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت جعلی مقدمات کے ذریعے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو نااہل قرار دے رہی ہے تاکہ فارم 47 کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق جن امیدواروں کو نااہل کیا جا رہا ہے، ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ فارم 45 پر جیت چکے تھے۔

بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اب غیرجانبدار ادارہ نہیں رہا بلکہ حکومت کا مددگار بن چکا ہے، جو سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت 5 اگست کے اعلان کردہ احتجاج سے خوفزدہ ہے، اسی لیے اپوزیشن کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج موجودہ جعلی حکومت کے سیاسی انجام کی نشاندہی کرے گا، اور اب عمران خان کی رہائی کو مزید نہیں روکا جا سکتا۔ عوام اس وقت عمران خان کی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے بھرپور جذبے سے تیار ہیں۔

سورس اردو پوائنٹ