مصطفیٰ نواز کھوکھر کا سوال: پی ڈی ایم کی کونسی کانفرنس عمران خان کے دور میں روکی گئی؟ – اسد قیصر، بیرسٹر سیف اور دیگر رہنماؤں کا ردعمل
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کو روکنے کے لیے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومتی ہتھکنڈے آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سابقہ دورِ حکومت میں پی ڈی ایم کی کوئی کانفرنس روکی گئی تھی؟
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیولپ ہوٹل پر دباؤ ڈال کر کل جماعتی کانفرنس کی منسوخی کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان کو شمالی کوریا میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں اپوزیشن کا کوئی وجود نہ ہو؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اے پی سی منعقد کرنا اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے دباؤ اور دھمکیوں سے چھینا نہیں جا سکتا۔
ادھر پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دو روزہ اے پی سی، جو 31 جولائی اور یکم اگست کو اسلام آباد میں ہونی ہے، اس کے انعقاد کو روکنے کے لیے حکومتی ادارے ہوٹل انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں اس طرزعمل کو "فاشزم” قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت آئینی حقوق کو روند رہی ہے۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ کانفرنس کا انعقاد اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور حکومت کا یہ رویہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس جبر کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اسی دوران خیبرپختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو جعلی مقدمات کے ذریعے نااہل قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ فارم 47 کے ذریعے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو جتوایا جا سکے۔ بیرسٹر سیف نے الزام عائد کیا کہ حکومت فارم 45 پر جیتنے والے امیدواروں کو باہر کر کے الیکشن کمیشن کی مدد سے اپنی مرضی کا نتیجہ لانا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اب غیرجانبدار ادارہ نہیں رہا بلکہ حکومت کی "بی ٹیم” بن چکا ہے۔ جعلی حکومت 5 اگست کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اس حکومت کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ عوام عمران خان کی رہائی اور حقیقی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور شرکت کریں گے۔
سورس اردو پوائنٹ




























