مہمان ٹیم اور پاکستان سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کیلئے منگل کے روز راولپنڈی میں آمنے سامنے آئیں گے
جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی کیلئے پاکستان کی ممکنہ پلیئنگ 11 سامنے آ گئی، مہمان ٹیم اور پاکستان سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کیلئے منگل کے روز راولپنڈی میں آمنے سامنے آئیں گے۔ پہلے میچ کیلئے ٹیم میں سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، فہیم اشرف، حسن نواز، محمد نواز، ابرار احمد، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، صائم ایوب اور عثمان طارق کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز منگل کے روز راولپنڈی میں ہو گا۔ میچ کی اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی شائقین کرکٹ کو پہلی مرتبہ پاکستانی کرکٹرز سبز رنگ کے بجائے کسی دوسرے رنگ کی کٹز میں نظر آئیں گے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں گلابی کٹ پہنے گی۔
پی سی بی کے مطابق راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی گلابی رنگ میں رنگ جائے گا۔ پی سی بی حکام کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے تحت "پنک ربن پاکستان” کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ چھاتی کے سرطان سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کی جا سکے۔ یہ مہم عالمی سطح پر منائے جانے والے #PINKtober کا حصہ ہے۔
میچ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم خصوصی گلابی تھیم والی کٹ پہن کر میدان میں اترے گی جبکہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی، میچ آفیشلز، کوچنگ اسٹاف اور کمنٹیٹرز بھی اس مہم کی حمایت میں گلابی ربن لگائیں گے۔ میچ میں استعمال ہونے والی سٹمپس بھی گلابی رنگ کی ہوں گی۔ نشریات کے دوران کمنٹیٹرز ناظرین کو آگاہی پیغامات بھی دیں گے تاکہ بیماری سے متعلق شعور مزید اجاگر کیا جا سکے۔
مزید برآں، لاہور کے کلمہ چوک پر واقع پنک ربن بریسٹ کینسر ٹرسٹ اسپتال نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 اکتوبر کو خواتین کے لیے مفت کلینیکل معائنہ اور سکریننگ کی سہولت فراہم کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اپنی صحت کے بارے میں باخبر رہیں اور بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید نے کہا کہ یہ اقدام بورڈ کے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے تحت جاری مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم دونوں ٹیموں، میچ آفیشلز، نشریاتی اداروں اور شائقین کے مشکور ہیں جنہوں نے اس اہم مقصد کے لیے یکجا ہو کر تعاون کیا۔ ہماری امید ہے کہ مشترکہ کوششوں سے ہم معاشرے میں آگاہی پھیلانے اور لوگوں کو مثبت عمل کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوں گے۔





