معلوم ہےکہ ہمارے پاس کتنے ارکان ہیں ہم اپوزیشن میں رہیں گے، بلاول بھٹو سے ملاقات خیرسگالی تھی ایجنڈا میٹنگ نہیں تھی، ملاقات میں کسی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مجھے اپوزیشن لیڈر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی بلاول بھٹو سے ایسی کوئی بات ہوئی، معلوم ہے کہ ہمارے پاس کتنے ارکان ہیں ہم اپوزیشن میں رہیں گے۔انہوں نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کے ساتھ ملاقات خیرسگالی تھی ایجنڈا میٹنگ نہیں تھی، بلاول بھٹو سے ملاقات میں کسی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی۔
مجھے اپوزیشن لیڈر بننے میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہوئی۔ معلوم ہے کہ ہمارے پاس کتنے ارکان ہیں، ہم انہی ارکان کے ساتھ اپوزیشن میں رہیں گے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاک افغان مذاکرات کی کامیابی کیلئے سنجیدہ رابطہ کیا گیا تو ہم مثبت جواب دیں گے، ملک کا مفاد ہماری ترجیح ہے اسی کے پیش نظر کام کریں گے، پاک افغان کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔
رویے شدت کی طرف جارہے ہیں ، رویوں میں نرمی اور لچک لانا ہوگی۔ یاد رہے چیئرمین پاکستان پیپلز بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان ایک گھنٹہ تک ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر میں حکومت سازی کے عمل میں فضل الرحمٰن سے مشاورت کی، جس پر سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے حوالے سے مشورے دیے۔
اہم ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نیر حسین بخاری، ہمایوں خان اور جمیل سومرو موجود تھے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود اور مفتی ابرار شریک تھے۔واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بڑا فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا تھا۔پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی تھی۔




























