وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بڑے پُرعزم لہجے میں کہا ہے کہ اگر عمران خان قانونی طور پر ایک سے دو ہفتے میں آزاد نہ ہوا تو ہم خود اس کی رہائی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں سب سے آگے ہوں گے، پہلا قدم خود اٹھائیں گے اور پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے عمران خان کا ملٹری ٹرائل کرنا تو دور، ان کے اپنے باپ بھی یہ کام نہیں کر سکتے، جنہیں وہ اپنا باپ سمجھتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کی تعیناتی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا ہم جنرل فیض کو کسی قسم کی وراثت میں ملے تھے؟ فیض حمید تمہارا آدمی تھا، اسے جنرل اور ڈی جی بنانے کا عمل تم نے ہی کیا تھا، اپنے ادارے کو درست کرو۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ 9 مئی سے پہلے میں تمہارے خلاف جو جذبات رکھتا ہوں، ان کا اظہار اگلے جلسے میں کروں گا، اور تمہیں ننگا کر دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم آئین کا احترام نہیں کرتے تو ہم بھی آئین کو نہیں مانتے، اور جو لوگ تمہیں نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلا جلسہ لاہور میں ہوگا، مریم نواز کو پیغام ہے کہ این او سی ملے یا نہ ملے، ہمارے ساتھ پنگا مت لینا، ورنہ حال یہ ہوگا کہ بنگلہ دیش بھول جاؤ گے، کیونکہ ہمارے پٹھانوں کی روایت ہے کہ ہم ڈھول بھی بجاتے ہیں اور بارات بھی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کی عوام نے اپنی طاقت سے مینڈیٹ کی چوری کو روکا ہے، اور یہاں کسی کی بھی جرات نہیں کہ ہمیں میلی آنکھ سے دیکھے۔ خدا کی قسم، ہم خون بھی بہائیں گے لیکن تمہیں تمہارے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے، ہم این آر او کو قبول نہیں کرتے اور قوم کے لوٹے ہوئے اربوں واپس دلائیں گے۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ ہم عمران خان کے ساتھ ہیں، کیونکہ وہ حق پر ہے، اور سب کو پتہ چل گیا ہے کہ جب ہم زور لگاتے ہیں تو سب پاؤں پکڑ لیتے ہیں۔ اعظم سواتی کے لیے 7 بجے گیٹ کھولنے کا بھی اعلان کیا، اور کہا کہ عمران خان اللہ کا واسطہ ہے عوام کو روک لے۔




























