ججز تقرری کمیشن کیلئے پیشرفت، سپیکر نے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا

0
88

26ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے عمل میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط بھیجا ہے جس میں پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے اراکین کی نامزدگی کی تفصیلات شامل ہیں۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق، ایوان سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب کو جوڈیشل کمیشن کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جبکہ سینیٹ سے فاروق نائیک اور شبلی فراز کو کمیشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، خاتون کی مخصوص نشست کے لیے روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ تمام نامزدگیاں سپریم جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹریٹ کو بھیج دی گئی ہیں، اور سپریم کورٹ نے بھی ان نامزدگیوں کو وصول کرلیا ہے۔

26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن اب 13 اراکین پر مشتمل ہوگا، جس میں چیف جسٹس سربراہ ہوں گے، جبکہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز، آئینی بینچ کا سینیئر جج، وزیر قانون، اٹارنی جنرل، اور پاکستان بار کونسل کا ایک 15 سالہ تجربے کا حامل نمائندہ شامل ہوگا۔ پارلیمنٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، دو اراکین کمیشن میں شامل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، سینیٹ میں منتخب ہونے والی اہل خاتون یا غیر مسلم ٹیکنوکریٹ کو دو سال کے لیے کمیشن کا حصہ بنایا جائے گا۔

یہ اقدام ججز کی تعیناتی کے عمل میں مزید شفافیت اور پارلیمانی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔